اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

{ثُمَّ یُجۡزٰىہُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰی ﴿ۙ۴۱﴾} 

[ثُمَّ يُجْزٰىهُ [ پھر بدلے میں دیا جائے گا اس کو ] الۡجَزَآءَ الْاَوْفٰى  [ پھر پورا بدلہ ]

ترکیب : (آیت ۔ 41) ۔ مادہ ’’ و ف ی ‘‘ سے باب افعال میں ماضی کا صیغہ اصلا اوفی ہوتا ہے جو اوفی استعمال ہوتا ہے ۔ افعل تفضیل میں یہ اصلا اوفی ہوتا ہے اور یہ بھی اوفی استعمال ہوتا ہے یہاں یہ اجزاء کی صفت کے طور پر آیا ہے اس لیے یہ ماضی کا صیغہ نہیں ہوسکتا بلکہ یہ افعل تفضیل ہے۔"

{وَ اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی ﴿ۙ۴۲﴾} 

[وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ [ اور یہ کہ آپ کے رب کی طرف ہی ] الْمُنْتَهٰى [ رکنے کی جگہ ہے]"

{وَ اَنَّہٗ ہُوَ اَضۡحَکَ وَ اَبۡکٰی ﴿ۙ۴۳﴾} 

[وَاَنَّهٗ [ اور حقیقت یہ ہے کہ ] هُوَ [وہ ] اَضْحَكَ [ ہنساتا ہے] وَاَبْكٰى [ اور رلاتا ہے ]

( آیت ۔ 43۔44) اضحک ، ابکی ، امات ، اور احیا ، یہ سب ماضی کے صیغے ہیں لیکن ان کا ترجمہ حال میں ہوگا کیونکہ یہ آفاقی صداقت کا بیان ہے۔ (دیکھیں آیت 2:49، نوٹ ۔2)"

{وَ اَنَّہٗ ہُوَ اَمَاتَ وَ اَحۡیَا ﴿ۙ۴۴﴾} 

[وَاَنَّهٗ [ اور حقیقت یہ ہے کہ] هُوَ اَمَاتَ [ وہ موت دیتا ہے ] وَاَحْيَا [ اور زندگی دیتا ہے ]"

{وَ اَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوۡجَیۡنِ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰی ﴿ۙ۴۵﴾} 

[وَاَنَّهٗ [ اور حقیقت یہ ہے کہ ] خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ [ اس نے پیدا کیے دو جوڑے ] الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى [ مذکر اور مؤنث]"

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں