اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

{اَلَکُمُ الذَّکَرُ وَ لَہُ الۡاُنۡثٰی ﴿۲۱﴾} 

[اَلَكُمُ الذَّكَرُ [ کیا تمہارے لیے لڑکا ہے ] وَلَهُ [ اور اس (اللہ ) کے لیے ] الْاُنْثٰى [لڑکی ہے]"

{تِلۡکَ اِذًا قِسۡمَۃٌ ضِیۡزٰی ﴿۲۲﴾} 

[تِلْكَ اِذًا [ یہ تو پھر ] قِسْمَةٌ ضِيْزٰى [ بڑی نا انصافی والی تقسیم ہے]

ض ی ز: (ض) ضیزا ۔ حق سے کم دینا ۔ ناانصافی کرنا ۔ ضیزی (یہ دراصل فعلی کے وزن پر ضیزی ہے ۔ یا کی مناسبت سے ض کی ضمہ کو کسرہ میں تبدیل کرکے ضیزی  استعمال کرتے ہیں ) زیادہ یا سب سے زیادہ ناانصافی ۔ پھر مجرد بڑی ناانصافی کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 22۔"

{اِنۡ ہِیَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَہۡوَی الۡاَنۡفُسُ ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمُ الۡہُدٰی ﴿ؕ۲۳﴾} 

[اِنْ هِىَ [ نہیں ہیں یہ ] اِلَّآ اَسۡمَآءٌ  [ مگر کچھ ایسے نام ] سَمَّيْتُمُوْهَآ [ تم لوگوں نے نام دھرے جن کے ] اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمۡ  [ تم نے اور تمہارے آباؤاجداد نے ] مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ [ نہیں اتاری اللہ نے] بِهَا [ جن کے بارے میں ] مِنْ سُلْطٰنٍ  [ کوئی بھی سند ] اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ [ وہ لوگ نہیں پیروی کرتے ] اِلَّا الظَّنَّ [ مگر گمان کی ] وَمَا [ اور اس کی جو ] تَهْوَى [ پسند کرتے ہیں ] الْاَنْفُسُ  [ (ان کے ) جی ] وَلَقَدْ جَآءَہُمۡ [ حالانکہ آچکی ہے ان کے پاس ] مِّنْ رَّبِّهِمُ [ ان کے رب (کی طرف) سے ] الْهُدٰى [ہدایت ]"

{اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰی ﴿۫ۖ۲۴﴾} 

[اَمْ لِلْاِنْسَانِ [ یا انسان کے لیے] مَا [ وہ ہے جو ] تَمَنّٰی [ وہ تمنا کرے ]

نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 24۔ کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی تمناؤں کی رہنمائی میں جو چاہے فلسفہ بنا ڈالو، لیکن ضروری نہیں کہ تمہاری ہر تمنا پوری ہو حقیقت اور آرزو میں بڑا فرق ہے جب حقیقت سامنے آئے گی تب دیکھ لوگے کہ جوخیالی محل تم نے تعمیر کیے تھے اس کی بنیاد ریت پر تھی ، تمہارے یہ معبود کسی کے کام آنے والے نہیں بنیں گے ۔ یہاں پر امر ملحوظ رہے کہ جس طرح رہے کہ جس طرح مشرکین نے اپنے دیوتاؤں کے بل پر بہت سی تمنائیں اپنے دلوں میں پال رکھی ہیں اسی طرح یہود ، نصاری اور مسلمانوں نے بھی اپنے دلوں میں بہت سی جھوٹی آرزوئیں پال رکھی ہیں جو محض خواہش نفس سے وجود میں آئی ہیں ۔ قرآن نے اس آیت میں لفظ انسان سے خطاب کرکے بلا استثناء سب کو آگاہی دی ہے کہ تمنائیں جس کا جو جی چاہے پال رکھے ۔ لیکن یہ یاد رکھے کہ کسی کی آرزوؤں کی خاطر نہ حقائق میں تبدیلی ہوگی اور نہ خدا کا قانون کسی کی جانب داری کرے گا ۔ (تدبر قرآن)

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں