{وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾}
[وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ [ اور تمہاری جانوں میں بھی ] اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ [ تو کیا تم لوگوں کو سجھائی نہیں دیتا ]"
{وَ فِی السَّمَآءِ رِزۡقُکُمۡ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾}
[وَفِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ [ اور آسمانوں میں تمہارا رزق ] وَمَا [ اور وہ (بھی) ہے جس کا ] تُوْعَدُوْنَ [ تم سے وعدہ کیا جاتا ہے ]"
{فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّکُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ ﴿٪۲۳﴾}
[فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ [ تو زمین و آسمان کے رب کی قسم ہے ] اِنَّهٗ لَحَقٌّ [ کہ یہ (دین ) لازما حق ہے ] مِّثْلَ مَآ اَنَّكُمْ [ اس کے مانند جیسے کہ تم لوگ ] تَنْطِقُوْنَ [ بولتے ہو ]"
{ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿ۘ۲۴﴾}
[هَلْ اَتٰىكَ [ کیا پہنچی آپ کے پاس ] حَدِيْثُ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ الْمُكْرَمِيْنَ [ ابراہیم کے عزت دیئے ہوئے مہمانوں کی بات ]
ترکیب: ’’ ض ی ف ‘ ‘ کی لغت میں ہم بتا چکے ہیں کہ ضیف کا لفظ مذکر ، مؤنث ، واحد جمع سب کے لیے آتا ہے اور اس کی جمع ضیوف بھی آتی ہے ۔ یہاں ضیف جمع کے مفہوم میں آیا ہے، اسی لیے اس کی صفت المکرمین جمع میں آئی ہے آگے افعال دخلوا اور قالوا جمع کے صیغے میں آئے ہیں ۔ قالوا کے آگے سلما کی نصب بتا رہی ہے کہ یہ قالوا کا مفعول ہے یعنی بات (Tenselndirect) میں جب کہ آگے ، قال کے بعد سلم حالت رفع میں ہے ۔ یہ بات (Direct Tense) میں ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2:58، ترکیب )"
{اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾}
[اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ [ جب وہ داخل ہوئے ان پر ] فَقَالُوْا سَلٰمًا [ تو انہوں نے کہا سلامتی ہو] قَالَ سَلٰمٌ [ انھوں (ابراہیم ) نے کہا سلامتی ہے] قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ [(تم ) اجنبی لوگ ہو]"
{فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ۲۶﴾}
[فَرَاغَ اِلٰٓى اَهْلِهٖ [ پھر وہ آئے اپنے گھر والوں کی طرف ] فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِيْنٍ [ تو وہ لائے ایک فربہ بچھڑا (تلا ہوا )"





