سورۃ الذ ٰریٰت
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{وَالذّٰرِیٰتِ ذَرۡوًا ۙ﴿۱﴾}
[وَالذّٰرِيٰتِ [ قسم ہے دھواں اڑانے والیوں (ہواؤں ) کی ] ذَرْوًا [ جیسا اڑانے کا حق ہے ]
ترکیب : (آیات ۔ 1 تا 4) ۔ الحملت ۔ الجریت اور المقسمت ۔ یہ سب واو قسمیہ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں ۔ الجریت اسم الفاعل جار کی مونث جاریۃ کی جمع ہے ۔ جس کے لغوی معنی ہیں جاری ہونے والیاں ، پھر یہ کشتی کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں پر اس کا ترجمہ اگر ’’ کشتیاں ‘‘ کیا جائے تو یسرا بےمعنی ہوجائے گا ، اس لیے یہاں اس کا لغوی ترجمہ کرنا بہتر ہے۔"
{فَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا ۙ﴿۲﴾}
[فَالْحٰمِلٰتِ [ پھر اٹھانے والیوں کی ] وِقْرًا [ بوجھ (بادل ) کو ]"
{فَالۡجٰرِیٰتِ یُسۡرًا ۙ﴿۳﴾}
[فَالْجٰرِيٰتِ [ پھر چلنے والیوں کی ] يُسْرًا [نرمی ہوتے ہوئے]"
{فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ﴿۴﴾}
[فَالْمُقَسِّمٰتِ [ پھر تقسیم کرنے والیوں کی ] اَمْرًا [ ایک حکم کو ]"





