اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

{وَ جَآءَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّ شَہِیۡدٌ ﴿۲۱﴾} 

[وَجَآءَتۡ كُلُّ نَفْسٍ [ اور آئے گی ہر جان ] مَّعَهَا [ اس کے ساتھ ] سَآئِقٌ [ ایک ہانکنے والا ] وَّشَهِيْدٌ [ اور ایک گواہ ہوگا ]"

{لَقَدۡ کُنۡتَ فِیۡ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا فَکَشَفۡنَا عَنۡکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الۡیَوۡمَ حَدِیۡدٌ ﴿۲۲﴾} 

[لَقَدْ كُنْتَ [ یقینا تو رہ چکا ہے ] فِيْ غَفْلَةٍ [ غفلت میں ] مِّنْ ھٰذَا [ اس (دن) سے ] فَكَشَفْنَا [ تو ہم نے کھول دیا ] عَنْكَ غِطَآءَکَ [تجھ سے تیرا پردہ ] فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ [ نتیجۃ تیری بصارت آج کے دن ] حَدِيْدٌ [ تیز (Sharp) ہے ]

نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 22۔ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مثال خواب کی سی ہے اور آخرت کی مثال بیداری کی سی ہے ۔ جیسے خواب میں آدمی کی آنکھیں بند ہوتی ہیں اور وہ حقائق کو نہیں دیکھ پاتا ، اسی طرح انسان ان حقائق کو جن کا تعلق عالم آخرت سے ہے ان کو وہ اس دنیا میں آنکھوں سے نہیں دیکھتا ۔ مگر یہ ظاہری آنکھیں بند ہوتے ہی وہ خواب کا عالم ختم ہوجاتا ہے اور بیداری کا عالم شروع ہوتا ہے جس میں وہ سارے حقائق سامنے آجاتے ہیں جن کا علم انسان کو علم وحی کے ذریعہ دیا گیا ہے ۔ اسی لیے بعض علماء نے فرمایا کہ دنیا کی زندگی میں سب انسان سورہے ہیں ، جب مریں گے اس وقت جاگیں گے (معارف القرآن) علم وحی کی بنیاد پر آخرت کے ان دیکھے حقائق کا یقین کرنا علم الیقین کا مرحلہ ہے اور یہی باعث نجات ہے مرنے کے بعد عین الیقین کے مرحلے کا آغاز ہوتا ہے لیکن یہ مفید نہیں ہے ۔ اسی لیے عالم نزع طاری ہوجانے کے بعد کی دعا قبول نہیں ہوتی ، پھر جب انسانوں کو جنت یا دوزخ میں بھیج دیا جائے گا تو حق الیقین کے مرحلے کا آغاز ہوگا جو دائمی ہے جبکہ علم الیقین اور عین الیقین کے مرحلے عبوری (Transitionary) ہیں ۔"

{وَ قَالَ قَرِیۡنُہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیۡدٌ ﴿ؕ۲۳﴾} 

[و َقَالَ قَرِيْنُهٗ [ اور کہے گا اس کا ہمنشین (فرشتہ )] ھٰذَا مَا [ یہ وہ ہے جو ] لَدَيَّ [ میرے پاس تھا ] عَتِيْدٌ [ تیار (حاضر) ہے]

{اَلۡقِیَا فِیۡ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۲۴﴾} 

[اَلْقِيَا [ تم دونوں ڈال دو ] فِيْ جَهَنَّمَ [ جہنم میں ] كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍ [ ہر ناشکرے مخالف کو ]

ترکیب: (آیت ۔ 24) یہاں القیا تثنیہ کا صیغہ کیوں آیا ہے ۔ گرامر والوں (نحویوں) کا کہنا ہے کہ یہ عربوں کے رواج کے مطابق ہے۔ اونٹ کے بڑے ریوڑ کوچرانے کے لیے عموما تین آدمی جاتے تھے، ان میں سے کسی کو جب اپنے کسی ساتھی کو بلانا ہوتا تھا توعموما وہ تثینہ کے صیغے میں پکارتا تھا کہ دونوں میں سے کوئی بھی سن لے ۔ اس طرح ان کی یہ عادت ہوگئی کہ کسی ایک کو مخاطب کرنے کے لیے وہ تثنیہ کا صیغہ استعمال کرلیتے تھے ، ایک کو دو کے صیغے میں پکارنا عربوں کا محاورہ ہے (حافظ احمد یار صاحب کے کیسٹ سے ماموخوذ ہے ) اس لحاظ سے یہاں تثنیہ القیا واحد کے مفہوم ہے یعنی تو ڈال دے-

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں