سورۃ ق
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{قٓ ۟ۚ وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِیۡدِ ۚ﴿۱﴾}
[قٓ ۟ۚ وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِیۡدِ [ اس عظیم الشان قرآن کی قسم ہے (تم لوگ لازما اٹھائے جاؤگے ) ]
م ج د: (ک) مجادۃ ۔ بزرگی اور عظمت والا ہونا ۔ بڑی شان والا ہونا ۔ مجید ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ بزرگ ، شان والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 1
ترکیب: (آیات ۔ 1 تا 3) قسم کے جواب میں عموما ایک جواب قسم آتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں خدا کی قسم یہ بات یوں ہے یا یہ بات یوں نہیں ہے ۔ یہاں وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ قسم ہے اور اس کا جواب قسم محذوف ہے۔ آگے کی آیات کے پیش نظر حافظ احمد یار صاحب مرحوم نے یہاں لتبعثن (تم لوگ لازما دوبارہ اٹھائے جاؤگے ) کو محذوف مانا ہے۔ ھٰذَا شَيْءٌ عَجِيْبٌ میں ھذا کا اشارہ اسی محذوف جواب قسم کی طرف ہے ۔ ءَاِذَا شرطیہ ہے ۔ مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا شرط ہے۔ اس کا جواب شرط محذوف ہے جو لنبعثن ہے ۔ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِيْدٌ میں ذلک کا اشارہ اسی محذوف جواب شرط کی طرف ہے ۔"
{بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ فَقَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا شَیۡءٌ عَجِیۡبٌ ۚ﴿۲﴾}
[بَلْ عَجِبُوْٓا [بلکہ ان لوگوں نے حیرت کی ] اَنْ جَاۗءَهُمْ [ کہ آیا ان کے پاس] مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ [ ایک خبردار کرنے والا ان میں سے ] فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ [ پھر کہا انکار کرنے والوں نے ] ھٰذَا [ یہ (اٹھایا جانا ) ] شَيْءٌ عَجِيْبٌ [ عجیب ہی چیز ہے ]"
{ءَاِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا ۚ ذٰلِکَ رَجۡعٌۢ بَعِیۡدٌ ﴿۳﴾}
[ءَاِذَا مِتْنَا [ کیا جب ہم مردہ ہوجائیں گے] وَكُنَّا تُرَابًا ۚ [ اور ہم ہوجائیں گے مٹی (تب اٹھائے جائیں گے ) ] ذٰلِكَ [ یہ (اٹھایا جانا) ] رَجْعٌۢ بَعِيْدٌ [ بہت دور والا لوٹنا ہے]