{طَاعَۃٌ وَّ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ ۟ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ ۟ فَلَوۡ صَدَقُوا اللّٰہَ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ﴿ۚ۲۱﴾}
[طَاعَةٌ [(اصل مطلوب ہے ) اطاعت کرنا ] وَّقَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ [ اور بھلی بات کہنا ] فَاِذَا [ پھر جب کبھی ] عَزَمَ الْاَمْرُ [ پختہ ارادہ کرلے وہ معاملہ (یعنی جنگ کا فیصلہ ہوجائے ) ] فَلَوْ صَدَقُوا [ تو اگر یہ لوگ سچ کردکھاتے ] اللّٰهَ [اللہ کو ] لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ [ تو یقینا بہتر ہوتا انکے لیے ]
(آیت ۔ 21 ) طَاعَةٌ وَّقَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ خبریں ہیں ان سے پہلے ان کا مبتدا محذوف ہے جو المطلوب ہوسکتا ہے ۔ عزم فعل متعدی ہے جس کے معنی ہیں پکا ارادہ کرنا ۔ یہاں الامر اس کے فاعل کے طور پر آیا ہے۔ اس لیے لفظی ترجمہ بنتا ہے ۔ اس معاملہ نے پکا ارادہ کیا ۔ لیکن مفہوم فعل لازم کے معنی میں لیا جاتا ہے یعنی وہ معاملہ پکا ہوا یا پختہ ہوا۔"
{فَہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ تُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَکُمۡ ﴿۲۲﴾}
[فَهَلْ عَسَيْتُمْ [ پھر تم لوگوں سے کیا ہوسکتا ہے ] اِنْ تَوَلَّيْتُمْ [ اگر تم لوگ روگردانی کرو (جہادسے )] اَنْ [(سوائے اس کے ) کہ ] تُفْسِدُوْا [ تم لوگ حقوق وفرائض کا توازن بگاڑو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَتُـقَطِّعُوْٓا [ اور ٹکڑے ٹکڑے کرڈالو] اَرْحَامَكُمْ [ اپنی رشتہ داریوں کو ]
نوٹ۔2: اسلام نے رشتہ داری کے حقوق پورے کرنے کی بڑی تاکید کی ہے ۔ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص صلہ رحمی کرے گا اللہ اس کو اپنے قریب کرے گا اور جو رشتہ قرابت قطع کرے گا اللہ اس کو قطع کردے گا ۔ اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے اسی آیت کا حوالہ دیا کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص چاہتا ہو کہ اس کی عمر زیادہ ہو اور رزق میں برکت ہواسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں جو صرف برابر کا بدلہ دے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب دوسری طرف سے قطع تعلق کا معاملہ کیا جائے تو یہ ملانے اور جوڑنے کا کام کرے ۔ (معارف القرآن )"
{اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمۡ وَ اَعۡمٰۤی اَبۡصَارَہُمۡ ﴿۲۳﴾}
[اُولٰٓئِکَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] لَعَنَهُمُ اللّٰهُ [ لعنت کی جن اللہ نے ] فَاَصَمَّهُمْ [ پھر اس نے بہرا کردیا ان کو ] وَاَعْمٰٓى اَبْصَارَهُمْ [اور اندھی کردیں ان کی بصارتیں]