سورۃ محمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَضَلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۱﴾}
[اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ جن لوگوں نے انکار کیا ] وَصَدُّوْا [ اور وہ لوگ رکے رہے ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ سے ] اَضَلَّ [ تو وہ (اللہ) ضائع کرے گا ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال کو ]
ترکیب : جس طرح لفظ ’’ من ‘‘ اصلا موصولہ ہے لیکن کبھی یہ شرطیہ ہوتا ہے اسی طرح الذی اور الذین میں بھی کبھی شرط کا مفہوم ہوتا ہے جیسے آیات ایک اور دو میں ہے کہ جو لوگ یہ کام کریں گے (شرط) تو ان کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ ہوگا (جواب شرط) اس لیے ان میں ماضی کا ترجمہ حال یا مستقبل میں کرنے کی گنجائش ہے۔ آیت ۔ 3۔ میں آفاقی صداقت کا بیان ہے۔ اس لیے ماضی کا ترجمہ حال میں ہوگا ۔ (دیکھیں آیت 2:49، نوٹ ۔2)"
{وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوۡا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ ہُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۙ کَفَّرَ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ اَصۡلَحَ بَالَہُمۡ ﴿۲﴾}
[وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور جو لوگ ایمان لائے] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور انہوں نے عمل کیے نیکیوں کے ] وَاٰمَنُوْا بِمَا [ اور ایمان لائے اس پر جو ] نُزِّلَ عَلٰي مُحَمَّدٍ [نازل کیا گیا محمد پر ] وَّهُوَ الْحَقُّ [ جبکہ وہ ہی حق ہے] مِنْ رَّبِّهِمْ [ ان کے رب (کی جانب ) سے ] كَفَّرَ عَنْهُمْ [ تو وہ (اللہ ) دور کرے گا ان سے] سَـيِّاٰتِهِمْ [ ان کی برائیوں کو ] وَاَصْلَحَ [ اور وہ اصلاح کرے گا ] بَالَهُمْ [انکی حالت کی ]
نوٹ ۔1: آیت ۔2 میں صرف یہ نہیں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے ان کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ ہوگا ، بلکہ اس کے ساتھ یہ تصریح بھی ہے کہ اس چیز پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر اتاری گئی ، پھر مزید تصریح یہ ہے کہ اب خدا کی طرف سے حق یہی ہے۔ اس تصریح کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ اس دور میں ایک گروہ ان لوگوں کا بھی پیدا ہوگیا تھا جو کفر اور اسلام دونوں کے درمیان سمجھوتے کی باتیں کرنے لگا تھا کہ مسلمانوں کو کچھ گنجائش دوسروں کے لئے بھی تسلیم کرنی چاہئے ۔ (یہ گروہ آج بھی موجود ہے۔ مرتب) ۔ اہل کتاب میں بھی ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جو کہتا تھا کہ مومن تو ہم بھی ہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم محمد ﷺ پر ایمان نہیں لائے ، اس قسم کے رجحانات کی بیخ کنی قرآن نے پچھلی سورتوں میں بھی کی ہے اور یہاں بھی مذکورہ بالاتصریح نے اسی رجحان پر ضرب لگائی ہے کہ اب ایمان وہدایت کا واحد راستہ وہی ہے جس کی دعوت محمد ﷺ دے رہے ہیں ، اس سے ہٹ کر کوئی راہ نہیں ہے۔ (تدبر قرآن)