اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

{وَ اذۡکُرۡ اَخَا عَادٍ ؕ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَہٗ بِالۡاَحۡقَافِ وَ قَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖۤ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۲۱﴾} 

[وَاذْكُرْ [ اور آپ یاد کریں ] اَخَا عَادٍ ۭ [ عاد کے بھائی (ہود) کو ] اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ [ جب انہوں نے خبردار کیا اپنی قوم کو ] بِالْاَحْقَافِ [ احقاف (کے علاقے ) میں ] وَقَدْ خَلَتِ [ حالانکہ گزر چکے تھے ] النُّذُرُ [خبردار کرنے ] مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ [ ان کے آگے (والے علاقے ) سے] وَمِنْ خَلْفِهٖٓ [ اور ان کے پیچھے (والے علاقے ) سے] اَلَّا تَعْبُدُوْٓا [ کہ تم بندگی مت کرو (کسی کی) ] اِلَّا اللّٰهَ [ سوائے اللہ کے] اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ [ بیشک میں ڈرتا ہوں تم لوگوں پر ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم دن کے عذاب سے ]

ح ق ف : (ن) حقوفا  ہرن کا ریت کے تودہ میں بیٹھنا ۔ حقف ، ج: احقاف ۔ ریت کالمبا اور بیچ دار تودہ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 21۔

نوٹ۔1: چونکہ سرداران قریش اپنی بڑائی کا زعم رکھتے تھے اور اپنی ثروت پر پھولے نہ سماتے تھے ۔ اس لیے یہاں انکو قوم عاد کا قصہ سنایا جارہا ہے جس کے متعلق عرب میں مشہور تھا کہ قدیم زمانے میں وہ اس سرزمین کی سب سے زیادہ طاقتور قوم تھی۔ (تفہیم القرآن )"

{قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَاۡفِکَنَا عَنۡ اٰلِہَتِنَا ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۲﴾} 

[قَالُوْٓا اَجِئْتَـنَا [ ان لوگوں نے کہا کیا تو آیا ہمارے پا س] لِتَاْفِكَنَا [ تاکہ تو پھیر دے ہم کو ] عَنْ اٰلِهَتِنَا [ ہمارے خداؤں سے ] فَاْتِنَا [ پس تو لے آ ] بِمَا [ اس چیز کو جس کا ] تَعِدُنَآ [ تو وعدہ کرتا ہے ہم سے ] اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [ اگر تو سچ کہنے والوں میں سے ]"

{قَالَ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۫ۖ وَ اُبَلِّغُکُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِہٖ وَ لٰکِنِّیۡۤ اَرٰىکُمۡ قَوۡمًا تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۲۳﴾} 

[قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ [ انہوں نے کہا (اس کا) پورا علم تو بس ] عِنْدَ اللّٰهِ  [ اللہ کے پاس ہے ] وَاُبَلِّغُكُمْ [ اور میں پہنچاتا ہوں تم لوگوں کو ] مَّآ [ اس چیز کو ] اُرْسِلْتُ بِهٖ [ میں بھیجا گیا جس کے ساتھ ] وَلٰكِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ [ اور لیکن میں دیکھتا ہوں تم لوگوں کو ]قَوْمًا [ایک ایسی قوم (کہ) ] تَجْـهَلُوْنَ [ تم لوگ نادانی کرتے ہو]"

{فَلَمَّا رَاَوۡہُ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِیَتِہِمۡ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا ؕ بَلۡ ہُوَ مَا اسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِہٖ ؕ رِیۡحٌ فِیۡہَا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿ۙ۲۴﴾} 

[فَلَمَّا رَاَوْهُ [ پھر جب ان لوگوں نے دیکھا اس (عذاب ) کو ] عَارِضًا [ بادل ہوتے ہوئے]مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَــتِهِمْ  [ ان کی وادیوں کے سامنے آنے والا ہوتے ہوئے ] قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ [ تو انھوں نے کہا یہ ایک بادل ہے ] مُّمْطِرُنَا  [ (بارش ) برسانے والا ہے ہم پر ] بَلْ هُوَ [ بلکہ وہ ] مَا [ وہ ہے ] اسْـتَعْــجَلْتُمْ بِهٖ  [ تم جلدی مچاتے تھے جس کی ] رِيْحٌ [ (یہ) ایک ایسی ہوا ہے ] فِيْهَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ [جس میں ایک دردناک عذاب ہے]

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں