اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ الاحقاف  

{حٰمٓ ۚ﴿۱﴾} 

نوٹ ۔ 1: سورۃ الاحقاف کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ قرآن محمد ﷺ کا کلام نہیں ہوسکتا بلکہ یہ اللہ کا ہی کلام ہے ۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے اس پس منظر کو سمجھنا ہوگا جس میں سورہ نازل ہوئی ۔ یہ سورہ 10 نبوی کے آخر یا 11 نبوی کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی ۔ 10 نبوی حیات طیبہ میں انتہائی سختی کا سال تھا ۔ تین سال سے حضور ﷺ اپنے خاندان اور اپنے اصحاب کے ساتھ شعیب ابی طالب میں محصور تھے ، یہ محاصرہ اس سال ٹوٹا ہی تھا کہ حضرت ابو طالب وفات پاگئے جو دس سال سے آپ ﷺ کے لیے ڈھال بنے ہوئے تھے ۔ اس سانحے پر مشکل ایک مہینہ گزرا تھا کہ بی بی خدیجہؓ   بھی انتقال فرما گئیں جن کی ذات آغازنبوت سے ہی آپ کے لیے وجہ سکون وتسلی بنی رہی تھی ، ان پے درپے صدموں کی وجہ سے حضور ﷺ اس سال کو عام الحزن فرمایا کرتے تھے ۔ اس کے بعد کفار مکہ پہلے سے زیادہ آپ کو تنگ کرنے لگے اور آپ کا گھر سے نکلنا بھی مشکل ہوگیا ، آخرکار آپ ﷺ اس ارادے سے طائف تشریف لے گئے کہ اگر وہ لوگ اسلام نہ قبول کریں تو وہ آپ کو اپنے ہاں چین سے بیٹھ کر کام کرنے کا موقع دے دیں ، مگر انہوں نے آپ کی کوئی بات نہیں مانی اور آپ کو نوٹس دے دیا کہ وہ شہر سے نکل جائیں ۔ اور اپنے ہاں کے لفنگوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا ۔ وہ دور تک آپ پر آوازیں کستے اور پتھر مارتے رہے ۔ یہاں تک کہ آپ زخموں سے چور ہوگئے ۔ اس حالت میں آپ طائف کے باہر ایک باغ کی دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے اور اپنے رب سے عرض کیا :

’’ خداوندا میں تیرے ہی حضور اپنی بےبسی اور بےچارگی اور لوگوں کی نگاہ میں اپنی بےقدری کا شکوہ کرتاہوں ۔ اے ارحم الراحمین ، تو سارے ہی کمزوروں کا رب ہے اور میرا رب بھی توہی ہے ۔ مجھے کس کے حوالے کررہا ہے ۔ کیا کسی بیگانے کے حوالے جو مجھ پر سے درشتی سے پیش آئے ۔ یاکسی دشمن کے حوالے جو مجھ پر قابو پالے، اگر تم مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی مصیبت کی پرواہ نہیں مگر تیری طرف سے عافیت مجھے نصیب ہوجائے تو اس میں میرے لئے زیادہ کشادگی ہے، میں پناہ مانگتا ہوں تیری ذات کے اس نور کی جو اندھیرے میں اجالا اور دنیا اور آخرت کے معاملات کو درست کرتا ہے ۔ مجھے اس سے بچا لے کہ تیرا غضب مجھ پر نازل ہو یا میں تیرے عتاب کا مستحق ہوجائوں ۔ تیری مرضی پر راضی ہوں ، یہاں تک کہ تم مجھ سے راضی ہوجائے ۔ کوئی زور اور طاقت تیرے بغیر نہیں ۔

اس کے بعد چند روز نخلہ کے مقام پر ٹھہر گئے ، پریشان تھے کہ اب کیسے مکہ واپس جاؤں ۔ طائف میں جو کچھ گزری ہے اس کی خبریں وہاں پہنچ چکی ہوں گی ، اس کے بعد تو کفار پہلے سے بھی زیادہ دلیر ہوجائیں گے ۔

یہ حالات تھے جن میں یہ سورہ نازل ہوئی ۔ جو شخص بھی ان حالات کو نظر میں رکھے گا اور اس سورہ کو بغور پڑھے گا اسے کوئی شبہہ نہیں رہے گا کہ یہ محمد ﷺ کا کلام نہیں ہے بلکہ اس کا نزول اللہ کی طرف سے ہی ہے کیونکہ اول سے آخر تک پوری سورہ میں کہیں ان انسانی جذبات وتاثرات کا ایک ادنی شائبہ تک نہیں پایا جاتا جو ان حالات میں گزرنے والے انسان کے اندر فطری طور پر پیدا ہوتے ہیں ۔ اگر یہ محمد ﷺ کا کلام ہوتا جنھیں پے در پے صدمات اور مصائب کے بےپناہ ہجوم اور طائف کے تازہ ترین چرکے نے خستہ حالی کی انتہا کو پہنچا دیا تھا تو اس سورہ میں کہیں تو ان کیفیات کا عکس نظر آتا جو اس وقت آپ کے دل پر گزر رہیں تھیں ، ہم نے حضور ﷺ کی جو دعانقل کی ہے ، اسے دیکھیے ، وہ آپ کا اپنا کلام ہے ، اس کا لفظ لفظ ان کیفیات سے لبریز ہے مگر یہ سورہ جو اسی زمانے اور انہی حالات میں آپ ہی کی زبان مبارک سے ادا ہوئی ہے ، ان کے ہر اثر سے خالی ہے ۔ (تفہیم القرآن ج 4۔ ص۔596 تا 598 سے ماخوذ)

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں