اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ الجاثیہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ   

{حٰمٓ ۚ﴿۱﴾} 

حٰـم

{تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۲﴾} 

[تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ [ اس کتاب کا اتارنا] مِنَ اللّٰهِ [اللہ (کی طرف ) سے ہے] الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ [جو بالا دست ہے حکمت والا ہے]

ترکیب : آیت ۔ 3 میں لایت ، ان کا اسم ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے، فی السموت والارض قائم مقام خبر ہے کیونکہ خبر محذوف ہے جو کہ موجود یا ثابت ہوسکتی ہے جبکہ آیات ۔ 4۔5۔ میں ایت مبتدا مؤخر نکرہ ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہیں آیت ۔ 5۔ میں واختلاف اور تصریف کی جر سابقہ آیت میں فی خلقکم کی فی پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے ۔ اسی طرح سے ما انزل اللہ میں ما بھی اسی فی پر عطف ہے اور محلا حالت جر میں ہے ۔"

{اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ﴿۳﴾} 

[اِنَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ بیشک آسمانوں اور زمین میں ] لَاٰيٰتٍ [ یقینا نشانیاں ہیں ] لِّلْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں کے لیے ]

نوٹ۔1: کائنات کی مختلف نشانیاں بیان فرما کر ایک جگہ یہ فرمایا ہے کہ اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانیاں ہیں دوسری جگہ فرمایا کہ یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں اور تیسری جگہ ہے کہ عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان نشانیوں سے پورا فائدہ  تو وہی اٹھا سکتے ہیں جو ایمان لے آئیں ، دوسرے نمبر پر ان لوگوں کے لیے مفید ہوسکتی ہیں ، جو فورا ایمان نہ لائیں لیکن ان کے دل میں یقین پیدا ہوجائے کہ یہ چیزیں توحید پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ یہ یقین کسی نہ کسی دن ایمان کا سبب بن سکتا ہے اور تیسرے درجے میں ان لوگوں کے لئے مفید ہیں جو کم از کم عقل سلیم رکھتے ہوں اور ان میں بصیرت کے ساتھ غور کریں ، کیونکہ عقل وبصیرت کے ساتھ جب بھی ان نشانیوں پر غور کیا جائے گا تو یقین اور ایمان ضرور پیدا ہوگا ، ہاں جو لوگ عقل سلیم نہ رکھتے ہوں یا ان معاملات میں عقل کو تکلیف دینا بھی گوارہ نہ کریں ان کے سامنے ہزار دلائل پیش کرنا بھی ناکافی ہے۔ (معارف القرآن)

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں