اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

{وَ اِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِیۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴿۲۱﴾} 

[وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِيْ [ اور اگر تم لوگ بات نہیں مانتے میری ] فَاعْتَزِلُوْنِ [ تو کنارہ کش ہوجاؤ مجھ سے]"

{فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴿ؓ۲۲﴾} 

[فَدَعَا رَبَّهٗٓ [ پھر انہوں نے دعا (فریاد) کی اپنے رب سے ] اَنَّ ہٰۤؤُلَآءِ [ کہ یہ لوگ ] قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ [ جرم کرنے والے لوگ ہیں ]"

{فَاَسۡرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾} 

[فَاَسْرِ [ تو آپ لے کر نکلیں ] بِعِبَادِيْ [ میرے بندوں کو ] لَيْلًا [ رات کے وقت ] اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ [ بیشک تم لوگ پیچھا کیے جانے والے ہو]

نوٹ۔ 2: آیت ۔ 23۔ میں بعبادی کے لفظ کا مطلب ہے وہ تمام بندے جو ایمان لائے ہیں ۔ ان میں بنی اسرائیل بھی تھے اور مصر کے وہ قبطی باشندے بھی جو حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آمد تک مسلمانوں میں شامل ہو چکے تھے اور وہ لوگ بھی جنھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نشانیاں دیکھ کر اور آپ کی دعوت وتبلیغ سے متاثر ہو کر اہل مصر میں سے ایمان قبول کیا تھا ۔ (تفہیم القرآن )"

{وَ اتۡرُکِ الۡبَحۡرَ رَہۡوًا ؕ اِنَّہُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۲۴﴾} 

[وَاتْرُكِ الْبَحْرَ [ اور آپ چھوڑ دیں سمندر کو ] رَهْوًا [ ساکن ہونے کی حالت میں ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ لوگ ] جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ [ غرق کیے جانے والے لشکر ہیں ]"

{کَمۡ تَرَکُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۲۵﴾} 

[كَمْ تَرَكُوْا [ کتنے ہی (بہت سے ) انہوں نے چھوڑے ] مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ [ باغات اور چشمے]

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں