اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ الدخان

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

{حٰمٓ ۚ﴿ۛ۱﴾} 

حٰمٓ 

{وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾} 

[وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ [ قسم ہے اس واضح کرنے والی کتاب کی ]"

{اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ ﴿۳﴾} 

[اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ [ بیشک ہم نے اتارا اس کو ] فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ [ ایک برکت دی ہوئی رات میں ] اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ [ خبردار کرنے والے ]

نوٹ ۔ 1: مبارک رات میں قرآن کے نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوح محفوظ سے پورا قرآن سماء دنیا پر اسی رات میں نازل کردیا گیا تھا پھر 23 سال کی مدت میں تھوڑا تھوڑا رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتا رہا ۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ہرسال جتنا قرآن نازل ہونا مقدر ہوتا تھا اتناہی شب قدر میں لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل کردیا جاتا تھا ۔ (معارف القرآن )

لیلۃ مبارکۃ سے مراد ظاہر ہے کہ لیلۃ القدر ہے ۔ سورہ قدر میں یہ تصریح موجود ہے کہ اسی رات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن اتارا۔ یہ لیلۃ القدر لازما رمضان شریف کی ہی کوئی رات ہوسکتی ہے۔ اس لئے کہ قرآن میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ رمضان ہی کے مہینہ میں قرآن نازل ہوا ۔ (البقرہ ۔ 185) رہا یہ سوال کہ یہ رمضان کی کون سی رات ہے تو روایات کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرے کی کوئی رات ہے ۔ ان تصریحات سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوجاتی ہے کہ اس سے شعبان یا کسی اور مہینہ کی کوئی رات مراد لینے کی گنجائش نہیں ہے ۔ (تدبرالقرآن )

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں