{اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَہَاۤ اَنۡہٰرًا وَّ جَعَلَ لَہَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیۡنَ الۡبَحۡرَیۡنِ حَاجِزًا ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؕ۶۱﴾}
[اَمَّنْ [ یا وہ (بہتر ہے) جس نے] جَعَلَ [ بنایا] الْاَرْضَ [ زمین کو] قَرَارًا [ ٹھہرائی ہوئی] وَّجَعَلَ [ اور اس نے بنائیں] خِلٰلَهَآ [ اس کی دراڑوں سے] اَنْهٰرًا [ نہریں] وَّجَعَلَ [ اور اس نے بنائے] لَهَا [ اس (زمین ) کے لئے]رَوَاسِيَ [ کچھ پہاڑ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا] بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ [ دو سمندروں کے درمیان] حَاجِزًا [ ایک رکاوٹ] ءَ [ کیا] اِلٰهٌ [ کو یہ الٰہ ہے] مَّعَ اللّٰهِ ۭ[ اللہ کے ساتھ] بَلْ [ بلکہ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر] لَا يَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے
ح ج ز:(ن۔ ض) حجزا منع کرنا۔ روک دینا۔
حاجز :اسم الفاعل کے وزن پر صفت۔ روکنے والا۔ رکاوٹ۔ آڑ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 61"
{اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۶۲﴾}
[اَمَّنْ [ یا وہ (بہتر ہے) جو] يُّجِيْبُ [ (دعا) قبول کرتا ہے] الْمُضْطَرَّ [ مجبور کئے ہوئے کی] اِذَا [ جب بھی] دَعَاهُ [ وہ پکارے اس کو] وَيَكْشِفُ [ اور وہ دور کرتا ہے] السُّوۡٓءَ [ برائی کو] وَيَجْعَلُكُمْ [ اور بناتا ہے تم لوگوں کو] خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ۭ [ زمین کا (یعنی میں) خلیفہ] ءَ [ کیا] اِلٰهٌ [ کوئی الٰہ ہے] مَّعَ اللّٰهِ ۭ[ اللہ کے ساتھ]قَلِيْلًا مَّا [ بہت ہی تھوڑی] تَذَكَّرُوْنَ [ تم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہو]
نوٹ۔1: مضطر وہ شخص ہے جو سب دنیا کے سہاروں سے مایوس ہوکر خالص اللہ تعالیٰ ہی کو فریاد رس سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مضطر کی دعا قبول کرنے کا ذمہ لے لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے سب سہاروں سے منقطع ہوکر، صرف اللہ تعالیٰ ہی کو کارساز سمجھ کردیا کرنا سرمائی اخلاص ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اخلاص کا بڑا درجہ ہے۔ وہ جس کسی بندے میں پایا جائے، وہ مومن ہو یا کافر، متقی ہو یا فاسق وفاجر، اس کے اخلاص کی برکت سے رحمت حق اس کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں کافروں کا حال ذکر فرمایا کہ یہ لوگ جب دریا میں ہوتے ہیں اور کشتی موجوں کی لپیٹ میں آجاتی ہے اس وقت یہ لوگ (سارے دیوی و یوتا بھول کر) پورے اخلاص کے ساتھ اللہ کو پکارتے ہیں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول کرکے خشکی پر لے آتا ہے تو یہ پھر شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں۔ ایک مظلوم کی دعا ، دوسرے مسافر کی دعا، تیسرے باپ کی جو اپنی اولاد کے لئے بدعا کرے۔ ان تینوں دعاؤں میں بھی وہی صورت ہے جو دعائے مضطر میں ہے کہ دنیا کے سہاروں اور مددگاروں سے مایوس ہوکر خالص اللہ کو پکارتے ہیں۔ اگر کسی مضطر یا مظلوم یا مسافر وغیرہ کو کبھی یہ محسوس ہو کہ اس کی دعا مقبول نہیں ہوئی تو بدگمان اور مایوس نہ ہو۔ بعض اوقات دعا قبول تو ہو جاتی ہے مگر کسی مصلحت ربانی سے اس کا ظہور دیر میں ہوتا ہے۔ یا پھر وہ اپنے نفس کو ٹٹولے کہ اس کے اخلاص اور توجہ الی اللہ میں کمی کوتاہی رہی ہے۔ (معارف القرآن)