{فَفَرَرۡتُ مِنۡکُمۡ لَمَّا خِفۡتُکُمۡ فَوَہَبَ لِیۡ رَبِّیۡ حُکۡمًا وَّ جَعَلَنِیۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۲۱﴾}
[فَفَرَرْتُ [ پھر میں فرار ہوا]مِنْكُمْ[ تم لوگوں سے]لَمَّا [ جب] خِفْتُكُمْ [ میں ڈرا تم لوگوں سے] فَوَهَبَ [ تو عطا کیا] لِيْ [ مجھے] رَبِّيْ [ میرے رب نے]حُكْمًا [ ایک حکم] وَّجَعَلَنِيْ [ اور اس نے بنایا مجھ کو] مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں (یعنی رسولوں) میں سے]"
{وَ تِلۡکَ نِعۡمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۲۲﴾}
[وَتِلْكَ [ اور یہ ہے] نِعْمَةٌ [ وہ نعمت]تَمُنُّهَا [ تو احسان رکھتا ہے جس کا]عَلَيَّ [ مجھ پر] اَنْ [ کہ] عَبَّدْتَّ [ تو نے غلام بنایا] بَنِيْٓ اِسۡرَآءِیۡلَ [ بنی اسرائیل کو]
نوٹ۔1: سورہ کی مختصر تمہید کے بعد اب تاریخی بیان کا آغاز ہو رہا ہے جس میں سات قوموں کے حالات پیش کیے گئے ہیں جنہوں نے نشانیاں اور معجزے دیکھنے کے بعد بھی انکار کیا تو ان کا کیا انجام ہوا۔ اس کی ابتدا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے قصے سے کی گئی ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جن حالات سے سابقہ پیش آیا تھا وہ ان حالات کی کہیں زیادہ سخت تھے جن سے نبی ﷺ کو سابقہ درپیش تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسی قوم کے فرد تھے جو فرعون سے بری طرح دبی ہوئی تھی، جبکہ نبی ﷺ کا خاندان قریش کے دوسرے خاندانوں کے ساتھ بالکل برابر کی پوزیشن رکھتا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خود اس فرعون کے گھر میں پرورش پائی تھی اور ایک قتل کے الزام میں دس سال روپوش رہنے کے بعد انھیں حکم دیا گیا تھا کہ اسی بادشاہ کے دربار میں جا کھڑے ہوں جس کے ہاں سے وہ جان بچا کر فرار ہوئے تھے۔ نبی ﷺ کو ایسی کسی نازک صورتحال سے سابقہ نہ تھا۔ فرعون کی سلطنت اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقتور سلطنت تھی۔ قریش کی طاقت کو اس کی طاقت سے کوئی نسبت نہ تھی۔ اس کے باوجود فرعون حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور ان علیہ السلام سے ٹکرا کر آخر کار تباہ ہوگیا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کفار قریش کو یہ سبق دینا چاہتا ہے کہ جب فرعون کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے کچھ پیش نہ گئی تو تم بیچارے کیا ہستی ہو نبی ﷺ کے مقابلے میں بازی جیت لے جاؤ گے۔ (تفہیم القرآن)