{فَاَرَدۡنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیۡرًا مِّنۡہُ زَکٰوۃً وَّ اَقۡرَبَ رُحۡمًا ﴿۸۱﴾}
[فَاَرَدْنَآ: پھر ہم نے چاہا ] [اَنۡ : کہ] [يُّبْدِلَهُمَا: بدلے میں دے ان دونوں کو] [رَبُّهُمَا: ان کا رب] [خَيْرًا: زیادہ اچھا] [مِّنْهُ (رح) : اس سے] [زَكٰوةً: بلحاظ پاکیزگی کے] [وَّاَقْرَبَ: اور زیادہ قریب] [رُحْمًا: بلحاظ صلہ رحمی کے]"
{وَ اَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَ کَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنۡ یَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسۡتَخۡرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَ مَا فَعَلۡتُہٗ عَنۡ اَمۡرِیۡ ؕ ذٰلِکَ تَاۡوِیۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿ؕ٪۸۲﴾}
[وَاَمَّا : اور وہ جو] [الْجِدَارُ: دیوار تھی] [فَکَانَ : تو وہ تھی] [لِغُلٰمَيْنِ يَتِيْمَيْنِ: دو یتیم لڑکوں کے لئے] [فِي الْمَدِيْنَةِ: اس شہر میں] [ وَ کَانَ: اور تھا] [تَحْتَهٗ: اس کے نیچے ] [كَنْزٌ: ایک خزانہ] [لَّهُمَا: ان دونوں کے لئے] [وَ کَانَ : اور تھا] [اَبُوْهُمَا: ان کا والد] [صَالِحًا: نیک] [فَاَرَادَ: تو ارادہ کیا] [رَبُّكَ: آپؑ کے رب نے] [اَنۡ : کہ] [يَّبْلُغَآ: وہ دونوں پہنچیں] [اَشُدَّهُمَا: اپنی پختگی کو] [وَيَسْتَخْرِجَا: اور دونوں نکالیں] [كَنْزَهُمَا: اپنے خزانے کو] [رَحْمَةً: رحمت ہوتے ہوئے] [مِّنْ رَّبِّکَ : آپؑ کے رب (کی طرف) سے] [وَمَا فَعَلْتُهٗ: اور میں نے نہیں کیا یہ (سب کچھ)] [عَنْ اَمْرِيْ: اپنے حکم سے] [ذٰلِكَ: یہ] [تَاْوِيْلُ مَا: اس کی تعبیر ہے] [لَمْ تَسْطِعْ: آپؑ نے صلاحیت نہیں رکھی] [عَلَيْهِ: جس پر] [صَبْرًا: صبر کرنے کی]
نوٹ۔1: اس آیت ۔82۔ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی نیکیوں کی وجہ سے اس کے بال بچے بھی دنیا اور آخرت میں خدا کی مہربانی حاصل کر لیتے ہیں۔ دیکھیے آیت میں ان (لڑکوں) کی صلاحیت کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ ہاں ان کے والد کی نیک بختی اور نیک عملی بیان ہوئی ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ دراصل یہ تینوں باتیں جنھیں تم نے خطرناک سمجھا، سراسر رحمت تھیں۔ کشتی والوں کو گو قدرے نقصان ہوا لیکن اس سے پوری کشتی بچ گئی۔ بچے کے مرنے کی وجہ سے گو ماں باپ کو رنج ہوا لیکن ہمیشہ کے رنج اور عذاب سے بچ گئے اور پھر نیک بدلہ مل گیا۔ اور یہاں اس نیک شخص کی اولاد کا بھلا ہوا۔ (ابن کثیر )
یہ مثال اس امر کی ہے کہ دنیا میں مسکینوں اور نیکوں کو اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس نقصان کے اندر ان ہی کا کوئی فائدہ مضمر ہوتا ہے۔ اس لئے انھیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہیں اور اس امر پر یقین رکھیں کہ خدا کا کوئی فیصلہ بھی حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا لیکن کوئی شخص ان حکمتوں کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ (تدبر قرآن)