{وَ مِنۡہُمُ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہُوَ اُذُنٌ ؕ قُلۡ اُذُنُ خَیۡرٍ لَّکُمۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ یُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ رَحۡمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۱﴾}
[وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ]يُؤْذُوْنَ [ ایذا پہنچاتے ہیں ] النَّبِيَّ [ ان نبی کو ]وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ کہتے ہیں ]هُوَ [ وہ ]اُذُنٌ [ ایک کان ہیں ]قُلْ [ آپ کہیے ]اُذُنُ خَيْرٍ [ خیرکا کان ہے ]لَّكُمْ [ تمہارے لیے ]يُؤْمِنُ [ وہ ایمان رکھتے ہیں]بِاللّٰهِ [ اللہ پر ]وَيُؤْمِنُ [ اور وہ بات مانتے ہیں ]لِلْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں کی ]وَرَحْمَةٌ [ اور رحمت ہیں ]لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لیے جو ]اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ]وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ]يُؤْذُوْنَ [ ایذا پہنچاتے ہیں ] رَسُوْلَ اللّٰهِ [ اللہ کے رسول کو ]لَهُمْ [ ان کے لیے ]عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ہے]
(آیت ۔61) اذن مضاف اور خبر اس کا مضاف الیہ ہے ۔ مومن کی ضمیر فاعلی النبی کے لیے ہے۔"
{یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ لَکُمۡ لِیُرۡضُوۡکُمۡ ۚ وَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرۡضُوۡہُ اِنۡ کَانُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۲﴾}
[يَحْلِفُوْنَ [ وہ لوگ قسم کھاتے ہیں ]بِاللّٰهِ [ اللہ کی ]لَكُمْ [ تم سے ]لِيُرْضُوْكُمْ ۚ [ تاکہ وہ راضی کریں تم کو ] وَ [ حالانکہ] اللّٰهُ [ اللہ ]وَرَسُوْلُهٗٓ [ اور اس کا رسول ]اَحَقُّ [ زیادہ حقدار ہیں ]اَنْ [ کہ ]يُّرْضُوْهُ [ وہ راضی کریں ان کو ]اِنْ [ اگر]كَانُوْا [ وہ ہیں ]مُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
(آیت۔62) ان یرضوہ میں ضمیر مفعولی واحدلا کر ظاہر کیا گیا ہے کہ اللہ کا حق اور اس کے رسول کا حق ایک ہی بات ہے ۔
{اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّہٗ مَنۡ یُّحَادِدِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الۡخِزۡیُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۶۳﴾}
[اَ [ کیا ]لَمْ يَعْلَمُوْٓا [ انھوں نے نہیں جانا ]اَنَّهٗ [ کہ حقیقت یہ ہے کہ ]مَنْ [ جو ]يُّحَادِدِ [ مخالفت کرتا ہے ] اللّٰهَ [ اللہ کی]وَرَسُوْلَهٗ [ اور اس کے رسول کی ]فَاَنَّ [ تو یہ کہ ]لَهٗ [ اس کے لیے]نَارَ جَهَنَّمَ [ جھنم کی آگ ہے ]خَالِدًا [ ہمیشہ رہنے والا ہوتے ہوئے ]فِيْهَا [ اس میں ]ذٰلِكَ [ یہ ] الْخِزْيُ الْعَظِيْمُ [ ہی بڑی رسوائی ہے ]
(آیت ۔ 63) انہ ضمیر الشان ہے۔"